اب آتا ہے اللہ کا حکم تو اس کی جلدی نہ کرو (ف۲) پاکی اور برتری ہے اسے ان شریکوں سے، (ف۳)
يُنَزِّلُ الْمَلآئِكَةَ بِالْرُّوحِ مِنْ أَمْرِهِ عَلَى مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ أَنْ أَنذِرُواْ أَنَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنَاْ فَاتَّقُونِ [16-2]
ملائکہ کو ایمان کی جان یعنی وحی لے کر اپنے جن بندوں پر چاہے اتارتا ہے (ف ۴) کہ ڈر سناؤ کہ میرے سوا کسی کی بندگی نہیں تو مجھ سے ڈرو (ف۵)
خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ بِالْحَقِّ تَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ [16-3]
اس نے آسمان اور زمین بجا بنائے (ف۶) وہ ان کے شرک سے برتر ہے،
خَلَقَ الإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ [16-4]
(اس نے) آدمی کو ایک نِتھری بوند سے بنایا (ف۷) تو جبھی کھلا جھگڑالو ہے،
وَالأَنْعَامَ خَلَقَهَا لَكُمْ فِيهَا دِفْءٌ وَمَنَافِعُ وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ [16-5]
اور چوپائے پیدا کیے ان میں تمہارے لیے گرم لباس اور منفعتیں ہیں (ف۸) اور ان میں سے کھاتے ہو،
وَلَكُمْ فِيهَا جَمَالٌ حِينَ تُرِيحُونَ وَحِينَ تَسْرَحُونَ [16-6]
اور تمہارا ان میں تجمل ہے جب انہیں شام کو واپس لاتے ہو اور جب چرنے کو چھوڑتے ہو،
وَتَحْمِلُ أَثْقَالَكُمْ إِلَى بَلَدٍ لَّمْ تَكُونُواْ بَالِغِيهِ إِلاَّ بِشِقِّ الأَنفُسِ إِنَّ رَبَّكُمْ لَرَؤُوفٌ رَّحِيمٌ [16-7]
اور وہ تمہارے بوجھ اٹھا کر لے جاتے ہیں ایسے شہر کی طرف کہ اس تک نہ پہنچتے مگر ادھ مرے ہوکر، بیشک تمہارا رب نہایت مہربان رحم والا ہے (ف۹)
وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا وَزِينَةً وَيَخْلُقُ مَا لاَ تَعْلَمُونَ [16-8]
اور گھوڑے اور خچر اور گدھے کہ ان پر سوار ہو اور زینت کے لیے، اور وہ پیدا کرے گا (ف۱۰) جس کی تمہیں خبر نہیں، (ف۱۱)
وَعَلَى اللّهِ قَصْدُ السَّبِيلِ وَمِنْهَا جَآئِرٌ وَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ [16-9]
اور بیچ کی راہ (ف۱۲) ٹھیک اللہ تک ہے اور کوئی راہ ٹیڑھی ہے (ف۱۳) اور چاہتا تو تم سب کو راہ پر لاتا، (ف۱۴)
هُوَ الَّذِي أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لَّكُم مِّنْهُ شَرَابٌ وَمِنْهُ شَجَرٌ فِيهِ تُسِيمُونَ [16-10]
وہی ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا اس سے تمہارا پینا ہے اور اس سے درخت ہیں جن سے چَراتے ہو (ف۱۵)
يُنبِتُ لَكُم بِهِ الزَّرْعَ وَالزَّيْتُونَ وَالنَّخِيلَ وَالأَعْنَابَ وَمِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَةً لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ [16-11]
اس پانی سے تمہارے لیے کھیتی اگاتا ہے اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل (ف۱۶) بیشک اس میں نشانی ہے (ف۱۷) دھیان کرنے والوں کو،
وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالْنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالْنُّجُومُ مُسَخَّرَاتٌ بِأَمْرِهِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ [16-12]
اور اس نے تمہارے لیے مسخر کیے رات اور دن اور سورج اور چاند، اور ستارے اس کے حکم کے باندھے ہیں بیشک اس آیت میں نشانیاں ہیں عقل مندوں کو (ف۱۸)
وَمَا ذَرَأَ لَكُمْ فِي الأَرْضِ مُخْتَلِفًا أَلْوَانُهُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَةً لِّقَوْمٍ يَذَّكَّرُونَ [16-13]
اور وہ جو تمہارے لیے زمین میں پیدا کیا رنگ برنگ (ف۱۹) بیشک اس میں نشانی ہے یاد کرنے والوں کو
وَهُوَ الَّذِي سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَأْكُلُواْ مِنْهُ لَحْمًا طَرِيًّا وَتَسْتَخْرِجُواْ مِنْهُ حِلْيَةً تَلْبَسُونَهَا وَتَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيهِ وَلِتَبْتَغُواْ مِن فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ [16-14]
اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے دریا مسخر کیا (ف۲۰) کہ اس میں سے تازہ گوشت کھاتے ہو (ف۲۱) اور اس میں سے گہنا (زیور) نکالتے ہو جسے پہنتے ہو (ف۲۲) اور تو اس میں کشتیاں دیکھے کہ پانی چیر کر چلتی ہیں اور اس لیے کہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور کہیں احسان مانو،
وَأَلْقَى فِي الأَرْضِ رَوَاسِيَ أَن تَمِيدَ بِكُمْ وَأَنْهَارًا وَسُبُلاً لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ [16-15]
اور اس نے زمین میں لنگر ڈالے (ف۲۳) کہ کہیں تمہیں لے کر نہ کانپے اور ندیاں اور رستے کہ تم راہ پاؤ (ف۲۴)
وَعَلامَاتٍ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ [16-16]
اور علامتیں (ف۲۵) اور ستارے سے وہ راہ پاتے ہیں (ف۲۶)
أَفَمَن يَخْلُقُ كَمَن لاَّ يَخْلُقُ أَفَلا تَذَكَّرُونَ [16-17]
تو کیا جو بنائے (ف۲۷) وہ ایسا ہوجائے گا جو نہ بنائے (ف۲۸) تو کیا تم نصیحت نہیں مانتے،
وَإِن تَعُدُّواْ نِعْمَةَ اللّهِ لاَ تُحْصُوهَا إِنَّ اللّهَ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ [16-18]
اور اگر اللہ کی نعمتیں گنو تو انہیں شمار نہ کرسکو گے (ف۲۹) بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف۳۰)
وَاللّهُ يَعْلَمُ مَا تُسِرُّونَ وَمَا تُعْلِنُونَ [16-19]
اور اللہ جانتا ہے (ف۳۱) جو چھپاتے اور ظاہر کرتے ہو،
وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللّهِ لاَ يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ [16-20]
اور اللہ کے سوا جن کو پوجتے ہو ہیں (۳۲) وہ کچھ بھی نہیں بناتے اور (ف۳۳) وہ خود بنائے ہوئے ہیں (ف۳۴)
أَمْواتٌ غَيْرُ أَحْيَاءٍ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ [16-21]
مُردے ہیں (ف۳۵) زندہ نہیں اور انہیں خبر نہیں لوگ کب اٹھائے جایں گے (ف۳۶)
إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَالَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِالآخِرَةِ قُلُوبُهُم مُّنكِرَةٌ وَهُم مُّسْتَكْبِرُونَ [16-22]
تمہارا معبوثد ایک معبود ہے (ف۳۷) تو وہ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ان کے دل منکر ہیں (ف۳۸) اور وہ مغرور ہیں (ف۳۹)
لاَ جَرَمَ أَنَّ اللّهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ إِنَّهُ لاَ يُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِينَ [16-23]
فی الحقیقت اللہ جانتا ہے جو چھپاتے اور جو ظاہر کرتے ہیں، بیشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا،
وَإِذَا قِيلَ لَهُم مَّاذَا أَنزَلَ رَبُّكُمْ قَالُواْ أَسَاطِيرُ الأَوَّلِينَ [16-24]
اور جب ان سے کہا جائے (ف۴۰) تمہارے رب نے کیا اتارا (ف۴۱) کہیں اگلوں کی کہانیاں ہیں (ف۴۲)
لِيَحْمِلُواْ أَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُم بِغَيْرِ عِلْمٍ أَلاَ سَاءَ مَا يَزِرُونَ [16-25]
کہ قیامت کے دن اپنے (ف۴۳) بوجھ پورے اٹھائیں اور کچھ بوجھ ان کے جنہیں اپنی جہالت سے گمراہ کرتے ہیں، سن لو کیا ہی برا بوجھ اٹھاتے ہیں،
قَدْ مَكَرَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَأَتَى اللّهُ بُنْيَانَهُم مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَيْهِمُ السَّقْفُ مِن فَوْقِهِمْ وَأَتَاهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لاَ يَشْعُرُونَ [16-26]
بیشک ان سے اگلوں نے (ف۴۴) فریب کیا تھا تو اللہ نے ان کی چنائی کو نیو سے (تعمیر کو بنیاد) سے لیا تو اوپر سے ان پر چھت گر پڑی اور عذاب ان پر وہاں سے آیا جہاں کی انہیں خبر نہ تھی (ف۴۵)
ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُخْزِيهِمْ وَيَقُولُ أَيْنَ شُرَكَآئِيَ الَّذِينَ كُنتُمْ تُشَاقُّونَ فِيهِمْ قَالَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْعِلْمَ إِنَّ الْخِزْيَ الْيَوْمَ وَالْسُّوءَ عَلَى الْكَافِرِينَ [16-27]
پھر قیامت کے دن انہیں رسوا کرے گا اور فرمائے گا کہاں ہیں میرے وہ شریک (ف۴۶) جن میں تم جھگڑتے تھے (ف۴۷) علم والے (ف۴۸) کہیں گے آج ساری رسوائی اور برائی (ف۴۹) کافروں پر ہے
الَّذِينَ تَتَوَفَّاهُمُ الْمَلائِكَةُ ظَالِمِي أَنفُسِهِمْ فَأَلْقَوُاْ السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِن سُوءٍ بَلَى إِنَّ اللّهَ عَلِيمٌ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ [16-28]
وہ کہ فرشتے ان کی جان نکالتے ہیں اس حال پر کیا وہ اپنا برا کررہے تھے (ف۵۰) اب صلح ڈالیں گے (ف۵۱) کہ ہم تو کچھ برائی نہ کرتے تھے (ف۵۲) ہاں کیوں نہیں، بیشک اللہ خوب جانتا ہے جو تمہارے کوتک (برے اعمال) تھے (ف۵۳)
فَادْخُلُواْ أَبْوَابَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِينَ [16-29]
اب جہنم کے دروازوں میں جاؤ کہ ہمیشہ اس میں رہو، تو کیا ہی برا ٹھکانا مغروروں کا،
اور ڈر والوں (ف۵۴) سے کہا گیا تمہارے رب رب نے کیا اتارا، بولے خوبی (ف۵۵) جنہوں نے اس دنیا میں بھلائی کی (ف۵۶) ان کے لیے بھلائی ہے (ف۵۷) اور بیشک پچھلا گھر سب سے بہتر، اور ضرور (ف۵۸) کیا ہی اچھا گھر پرہیزگاروں کا
جَنَّاتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الأَنْهَارُ لَهُمْ فِيهَا مَا يَشَآؤُونَ كَذَلِكَ يَجْزِي اللّهُ الْمُتَّقِينَ [16-31]
بسنے کے باغ جن میں جائیں گے ان کے نیچے نہریں رواں انہیں وہاں ملے گا جو چاہیں (ف۵۹) اللہ ایسا ہی صلہ دیتا ہے پرہیزگاروں کو
الَّذِينَ تَتَوَفَّاهُمُ الْمَلآئِكَةُ طَيِّبِينَ يَقُولُونَ سَلامٌ عَلَيْكُمُ ادْخُلُواْ الْجَنَّةَ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ [16-32]
وہ جن کی جان نکالتے ہیں فرشتے ستھرے پن میں (ف۶۰) یہ کہتے ہوئے کہ سلامتی ہو تم پر (ف۶۱) جنت میں جاؤ بدلہ اپنے کیے کا،
