سورۃ طہ

(مکی ، کلُ آیات 135)

بسم الله الرحمن الرحیم
پڑھنے میں دشواری؟  فانٹ ڈاؤن لوڈ کریں
Pages: Previous 1 2 3 4 Next
[20]
مَنْ أَعْرَضَ عَنْهُ فَإِنَّهُ يَحْمِلُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وِزْرًا ‌[20-100]
جو اس سے منہ پھیرے (ف۱۵۱) تو بیشک وہ قیامت کے دن ایک بوجھ اٹھائے گا (ف۱۵۲)
﴿100﴾
خَالِدِينَ فِيهِ وَسَاءَ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حِمْلًا ‌[20-101]
وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے (ف۱۵۳) اور وہ قیامت کے دن ان کے حق میں کیا ہی بڑا بوجھ ہوگا،
﴿101﴾
يَوْمَ يُنفَخُ فِي الصُّورِ وَنَحْشُرُ الْمُجْرِمِينَ يَوْمَئِذٍ زُرْقًا ‌[20-102]
جس دن صُور پھونکا جائے گا (ف۱۵۴) اور ہم اس دن مجرموں کو (ف۱۵۵) اٹھائیں گے نیلی آنکھیں (ف۱۵۶)
﴿102﴾
يَتَخَافَتُونَ بَيْنَهُمْ إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا عَشْرًا ‌[20-103]
آپس میں چپکے چپکے کہتے ہوں گے کہ تم دنیا میں نہ رہے مگر دس رات (ف۱۵۷)
﴿103﴾
نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُونَ إِذْ يَقُولُ أَمْثَلُهُمْ طَرِيقَةً إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا يَوْمًا ‌[20-104]
ہم خوب جانتے ہیں جو وہ (ف۱۵۸) کہیں گے جبکہ ان میں سب سے بہتر رائے والا کہے گا کہ تم صرف ایک ہی دن رہے تھے (ف۱۵۹)
﴿104﴾
وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا ‌[20-105]
اور تم سے پہاڑوں کو پوچھتے ہیں (ف۱۶۰) تم فرماؤ انہیں میرا رب ریزہ ریزہ کرکے اڑا دے گا،
﴿105﴾
فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا ‌[20-106]
تو زمین کو پٹ پر (چٹیل میدان) ہموار کر چھوڑے گا
﴿106﴾
لَا تَرَى فِيهَا عِوَجًا وَلَا أَمْتًا ‌[20-107]
کہ تو اس میں نیچا اونچا کچھ نہ دیکھے،
﴿107﴾
يَوْمَئِذٍ يَتَّبِعُونَ الدَّاعِيَ لَا عِوَجَ لَهُ وَخَشَعَت الْأَصْوَاتُ لِلرَّحْمَنِ فَلَا تَسْمَعُ إِلَّا هَمْسًا ‌[20-108]
اس دن پکارنے والے کے پیچھے دوڑیں گے (ف۱۶۱) اس میں کجی نہ ہوگی (ف۱۶۲) اور سب آوازیں رحمن کے حضو ر (ف۱۶۳) پست ہوکر رہ جائیں گی تو تُو نہ سنے گا مگر بہت آہستہ آواز (ف۱۶۴)
﴿108﴾
يَوْمَئِذٍ لَّا تَنفَعُ الشَّفَاعَةُ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَنُ وَرَضِيَ لَهُ قَوْلًا ‌[20-109]
اس دن کسی کی شفاعت کام نہ دے گی، مگر اس کی جسے رحمن نے (ف۱۶۵) اذن دے دیا ہے اور اس کی بات پسند فرمائی،
﴿109﴾
يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِهِ عِلْمًا ‌[20-110]
وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے (ف۱۶۶) اور ان کا علم اسے نہیں گھیر سکتا (ف۱۶۷)
﴿110﴾
۞ وَعَنَتِ الْوُجُوهُ لِلْحَيِّ الْقَيُّومِ وَقَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا ‌[20-111]
اور سب منہ جھک جائیں گے اس زندہ قائم رکھنے والے کے حضور (ف۱۶۸) اور بیشک نامراد رہا جس نے ظلم کا بوجھ لیا (ف۱۶۹)
﴿111﴾
وَمَن يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا يَخَافُ ظُلْمًا وَلَا هَضْمًا ‌[20-112]
اور جو کچھ نیک کام کرے اور ہو مسلمان تو اسے نہ زیادتی کا خوف ہوگا اور نہ نقصان کا (ف۱۷۰)
﴿112﴾
وَكَذَلِكَ أَنزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا وَصَرَّفْنَا فِيهِ مِنَ الْوَعِيدِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ أَوْ يُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا ‌[20-113]
اور یونہی ہم نے اسے عربی قرآن اتارا اور اس میں طرح طرح سے عذاب کے وعدے دیے (ف۱۷۱) کہ کہیں انہیں ڈر ہو یا ان کے دل میں کچھ سوچ پیدا کرے (ف۱۷۲)
﴿113﴾
فَتَعَالَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ مِن قَبْلِ أَن يُقْضَى إِلَيْكَ وَحْيُهُ وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا ‌[20-114]
تو سب سے بلند ہے ا لله سچا بادشاہ (ف۱۷۳) اور قرآن میں جلدی نہ کرو جب تک اس کی وحی تمہیں پوری نہ ہولے (ف۱۷۴) اور عرض کرو کہ اے میرے رب! مجھے علم زیادہ دے،
﴿114﴾
وَلَقَدْ عَهِدْنَا إِلَى آدَمَ مِن قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا ‌[20-115]
اور بیشک ہم نے آدم کو اس سے پہلے ایک تاکیدی حکم دیا تھا (ف۱۷۵) تو وہ بھول گیا اور ہم نے اس کا قصد نہ پایا،
﴿115﴾
وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَى ‌[20-116]
اور جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب سجدہ میں گرے مگر ابلیس، اس نے نہ مانا،
﴿116﴾
فَقُلْنَا يَا آدَمُ إِنَّ هَذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَلِزَوْجِكَ فَلَا يُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقَى ‌[20-117]
تو ہم نے فرمایا، اے آدم! بیشک یہ تیرا اور تیری بی بی کا دشمن ہے (ف۱۷۶) تو ایسا نہ ہو کہ وہ تم دونوں کو جنت سے نکال دے پھر تو مشقت میں پڑے (ف۱۷۷)
﴿117﴾
إِنَّ لَكَ أَلَّا تَجُوعَ فِيهَا وَلَا تَعْرَى ‌[20-118]
بیشک تیرے لیے جنت میں یہ ہے کہ نہ تو بھوکا ہو اور نہ ننگا ہو،
﴿118﴾
وَأَنَّكَ لَا تَظْمَأُ فِيهَا وَلَا تَضْحَى ‌[20-119]
اور یہ کہ تجھے نہ اس میں پیاس لگے نہ دھوپ (ف۱۷۸)
﴿119﴾
فَوَسْوَسَ إِلَيْهِ الشَّيْطَانُ قَالَ يَا آدَمُ هَلْ أَدُلُّكَ عَلَى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَمُلْكٍ لَّا يَبْلَى ‌[20-120]
تو شیطان نے اسے وسوسہ دیا بولا، اے آدم! کیا میں تمہیں بتادوں ہمیشہ جینے کا پیڑ (ف۱۷۹) اور وہ بادشاہی کہ پرانی نہ پڑے (ف۱۸۰)
﴿120﴾
فَأَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِن وَرَقِ الْجَنَّةِ وَعَصَى آدَمُ رَبَّهُ فَغَوَى ‌[20-121]
تو ان دونوں نے اس میں سے کھالیا اب ان پر ان کی شرم کی چیزیں ظاہر ہوئیں (ف۱۸۱) اور جنت کے پتے اپنے اوپر چپکانے لگے (ف۱۸۲) اور آدم سے اپنے رب کے حکم میں لغزش واقع ہوئی تو جو مطلب چاہا تھا اس کی راہ نہ پائی (ف۱۸۶)
﴿121﴾
ثُمَّ اجْتَبَاهُ رَبُّهُ فَتَابَ عَلَيْهِ وَهَدَى ‌[20-122]
پھر اس کے رب نے چن لیا تو اس پر اپنی رحمت سے رجوع فرمائی اور اپنے قرب خاص کی راہ دکھائی،
﴿122﴾
قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِيعًا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّي هُدًى فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَى ‌[20-123]
فرمایا تم دونوں مل کر جنت سے اترو تم میں ایک دوسرے کا دشمن ہے، پھر اگر تم سب کو میری طرف سے ہدایت آئے، (ف۱۸۴) تو جو میری ہدایت کا پیرو ہو ا وہ نہ بہکے (ف۱۸۵) نہ بدبخت ہو (ف۱۸۶)
﴿123﴾
وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى ‌[20-124]
اور جس نے میری یاد سے منہ پھیرا (ف۱۸۷) تو بیشک اس کے لیے تنگ زندگانی ہے (ف۱۸۸) اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے،
﴿124﴾
قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِي أَعْمَى وَقَدْ كُنتُ بَصِيرًا ‌[20-125]
کہے گا اے رب میرے! مجھے تو نے کیوں اندھا اٹھایا میں تو انکھیارا (بینا) تھا (ف۱۸۹)
﴿125﴾
قَالَ كَذَلِكَ أَتَتْكَ آيَاتُنَا فَنَسِيتَهَا وَكَذَلِكَ الْيَوْمَ تُنسَى ‌[20-126]
فرمائے گا یونہی تیرے پاس ہماری آیتیں آئیں تھیں (ف۱۹۰) تو نے انہیں بھلادیا اور ایسے ہی آج تیری کوئی نہ لے گا (ف۱۹۱)
﴿126﴾
وَكَذَلِكَ نَجْزِي مَنْ أَسْرَفَ وَلَمْ يُؤْمِن بِآيَاتِ رَبِّهِ وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ أَشَدُّ وَأَبْقَى ‌[20-127]
اور ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں جو حد سے بڑھے اور اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہ لائے، اور بیشک آخرت کا عذاب سب سے سخت تر اور سب سے دیرپا ہے،
﴿127﴾
أَفَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُم مِّنَ الْقُرُونِ يَمْشُونَ فِي مَسَاكِنِهِمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّأُوْلِي النُّهَى ‌[20-128]
تو کیا انہیں اس سے راہ نہ ملی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں (قومیں) ہلاک کردیں (ف۱۹۲) کہ یہ ان کے بسنے کی جگہ چلتے پھرتے ہیں (ف۱۹۳) بیشک اس میں نشانیاں ہیں عقل والوں کو (ف۱۹۴)
﴿128﴾
وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَأَجَلٌ مُسَمًّى ‌[20-129]
اور اگر تمہارے رب کی ایک بات نہ گزر چکی ہوتی (ف۱۹۵) تو ضرور عذاب انھیں (ف۱۹۶) لپٹ جاتا اور اگر نہ ہوتا ایک وعدہ ٹھہرایا ہوا (ف۱۹۷)
﴿129﴾
فَاصْبِرْ عَلَى مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا وَمِنْ آنَاءِ اللَّيْلِ فَسَبِّحْ وَأَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضَى ‌[20-130]
تو ان کی باتوں پر صبر کرو اور اپنے رب کو سراہتے ہوئے اس کی پاکی بولو سورج چمکنے سے پہلے (ف۱۹۸) اور اس کے ڈوبنے سے پہلے (ف۱۹۹) اور رات کی گھڑیوں میں اس کی پاکی بولو (ف۲۰۰) اور دن کے کناروں پر (ف۲۰۱) اس امید پر کہ تم راضی ہو (ف۲۰۲)
﴿130﴾
وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَى مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيَاةِ الدُّنيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَأَبْقَى ‌[20-131]
اور اے سننے والے اپنی آنکھیں نہ پھیلا اس کی طرف جو ہم نے کافروں کے جوڑوں کو برتنے کے لیے دی ہے جتنی دنیا کی تازگی (ف۲۰۳) کہ ہم انہیں اس کے سبب فتنہ میں ڈالیں (ف۲۰۴) اور تیرے رب کا رزق (ف۲۰۵) سب سے اچھا اور سب سے دیرپا ہے،
﴿131﴾
وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا لَا نَسْأَلُكَ رِزْقًا نَّحْنُ نَرْزُقُكَ وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوَى ‌[20-132]
اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دے اور خود اس پر ثابت رہ، کچھ ہم تجھ سے روزی نہیں مانگتے (ف۲۰۶) ہم تجھے روزی دیں گے (ف۲۰۷) اور انجام کا بھلا پرہیزگاری کے لیے،
﴿132﴾
وَقَالُوا لَوْلَا يَأْتِينَا بِآيَةٍ مِّن رَّبِّهِ أَوَلَمْ تَأْتِهِم بَيِّنَةُ مَا فِي الصُّحُفِ الْأُولَى ‌[20-133]
اور کافر بولے یہ (ف۲۰۸) اپنے رب کے پاس سے کوئی نشانی کیوں نہیں لاتے (ف۲۰۹) اور کیا انہیں اس کا بیان نہ آیا جو اگلے صحیفوں میں ہے (ف۲۱۰)
﴿133﴾
وَلَوْ أَنَّا أَهْلَكْنَاهُم بِعَذَابٍ مِّن قَبْلِهِ لَقَالُوا رَبَّنَا لَوْلَا أَرْسَلْتَ إِلَيْنَا رَسُولًا فَنَتَّبِعَ آيَاتِكَ مِن قَبْلِ أَن نَّذِلَّ وَنَخْزَى ‌[20-134]
اور اگر ہم انہیں کسی عذاب سے ہلاک کردیتے رسول کے آنے سے پہلے تو (ف۲۱۱) ضرور کہتے اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں پر چلتے قبل اس کے کہ ذلیل و رسوا ہوتے،
﴿134﴾
قُلْ كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوا فَسَتَعْلَمُونَ مَنْ أَصْحَابُ الصِّرَاطِ السَّوِيِّ وَمَنِ اهْتَدَى ‌[20-135]
تم فرماؤ سب راہ دیکھ رہے ہیں (ف۲۱۲) تو تم بھی راہ دیکھو تو اب جان جاؤ گے (ف۲۱۳) کہ کون ہیں سیدھی راہ والے اور کس نے ہدایت پائی،
﴿135﴾

Pages: Previous 1 2 3 4 Next