طه [20-1]
طٰهٰ
مَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَى [20-2]
اے محبوب! ہم نے تم پر یہ قرآن اس لیے نہ اتارا کہ مشقت میں پڑو (ف۲)
إِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَن يَخْشَى [20-3]
ہاں اس کو نصیحت جو ڈر رکھتا ہو (ف۳)
تَنزِيلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْأَرْضَ وَالسَّمَاوَاتِ الْعُلَى [20-4]
اس کا اتارا ہوا جس نے زمین اور اونچے آسمان بنائے،
الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى [20-5]
وہ بڑی مہر والا، اس نے عرش پر استواء فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے،
لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَمَا تَحْتَ الثَّرَى [20-6]
اس کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں اور جو کچھ ان کے بیچ میں اور جو کچھ اس گیلی مٹی کے نیچے ہے (ف۴)
وَإِن تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَإِنَّهُ يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَى [20-7]
اور اگر تو بات پکار کر کہے تو وہ تو بھید کو جانتا ہے اور اسے جو اس سے بھی زیادہ چھپا ہے (ف۵)
اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى [20-8]
اللہ کہ اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں، اسی کے ہیں سب اچھے نام (ف۶)
وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ مُوسَى [20-9]
اور کچھ تمہیں موسیٰ کی خبر آئی (ف۷)
إِذْ رَأَى نَارًا فَقَالَ لِأَهْلِهِ امْكُثُوا إِنِّي آنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّي آتِيكُم مِّنْهَا بِقَبَسٍ أَوْ أَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى [20-10]
جب اس نے ایک آگ دیکھی تو اپنی بی بی سے کہا ٹھہرو مجھے ایک آگ نظر پڑی ہے شاید میں تمہارے لیے اس میں سے کوئی چنگاری لاؤں یا آ گ پر راستہ پاؤں،
فَلَمَّا أَتَاهَا نُودِي يَا مُوسَى [20-11]
پھر جب آگ کے پاس آیا (ف۸) ندا فرمائی گئی کہ اے موسیٰ،
إِنِّي أَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ إِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى [20-12]
بیشک میں تیرا رب ہوں تو تو اپنے جوتے اتار ڈال (ف۹) بیشک تو پاک جنگل طویٰ میں ہے (ف۱۰)
وَأَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا يُوحَى [20-13]
اور میں نے تجھے پسند کیا (ف۱۱) اب کان لگا کر سن جو تجھے وحی ہوتی ہے،
إِنَّنِي أَنَا اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي [20-14]
بیشک میں ہی ہوں اللہ کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری بندگی کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم رکھ (ف۱۲)
إِنَّ السَّاعَةَ ءاَتِيَةٌ أَكَادُ أُخْفِيهَا لِتُجْزَى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعَى [20-15]
بیشک قیامت آنے والی ہے قریب تھا کہ میں اسے سب سے چھپاؤں (ف۱۳) کہ ہر جان اپنی کوشش کا بدلہ پائے (ف۱۴)
فَلاَ يَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لاَ يُؤْمِنُ بِهَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ فَتَرْدَى [20-16]
تو ہرگز تجھے (ف۱۵) اس کے ماننے سے وہ باز نہ رکھے جو اس پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خواہش کےم پیچھے چلا (ف۱۶) پھر تو ہلاک ہوجائے،
وَمَا تِلْكَ بِيَمِينِكَ يَا مُوسَى [20-17]
اور یہ تیرے داہنے ہاتھ میں کیا ہے اے موسیٰ (ف۱۷)
قَالَ هِيَ عَصَايَ أَتَوَكَّأُ عَلَيْهَا وَأَهُشُّ بِهَا عَلَى غَنَمِي وَلِيَ فِيهَا مَآرِبُ أُخْرَى [20-18]
عرض کی یہ میرا عصا ہے (ف۱۸) میں اس پر تکیہ لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں پر پتے جھاڑتا ہوں اور میرے اس میں اور کام ہیں (ف۱۹)
قَالَ أَلْقِهَا يَا مُوسَى [20-19]
فرمایا اسے ڈال دے اے موسیٰ،
فَأَلْقَاهَا فَإِذَا هِيَ حَيَّةٌ تَسْعَى [20-20]
تو موسیٰ نے ڈال دیا تو جبھی وہ دوڑتا ہوا سانپ ہوگیا (ف۲۰)
قَالَ خُذْهَا وَلَا تَخَفْ سَنُعِيدُهَا سِيرَتَهَا الْأُولَى [20-21]
فرمایا اسے اٹھالے اور ڈر نہیں، اب ہم اسے پھر پہلی طرح کردیں گے (ف۲۱)
وَاضْمُمْ يَدَكَ إِلَى جَنَاحِكَ تَخْرُجْ بَيْضَاءَ مِنْ غَيْرِ سُوءٍ آيَةً أُخْرَى [20-22]
اور اپنا ہاتھ اپنے بازو سے ملا (ف۲۲) خوب سپید نکلے گا بے کسی مرض کے (ف۲۳) ایک اور نشانی (ف۲۴)
لِنُرِيَكَ مِنْ آيَاتِنَا الْكُبْرَى [20-23]
کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں،
اذْهَبْ إِلَى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَى [20-24]
فرعون کے پاس جا (ف۲۵) اس نے سر اٹھایا (ف۲۶)
قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي [20-25]
عرض کی اے میرے رب میرے لیے میرا سینہ کھول دے (ف۲۷)
وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي [20-26]
اور میرے لیے میرا کام آسان کر،
وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي [20-27]
اور میری زبان کی گرہ کھول دے، (ف۲۸)
يَفْقَهُوا قَوْلِي [20-28]
کہ وہ میری بات سمجھیں،
وَاجْعَل لِّي وَزِيرًا مِّنْ أَهْلِي [20-29]
اور میرے لیے میرے گھر والوں میں سے ایک وزیر کردے، (ف۲۹)
هَارُونَ أَخِي [20-30]
وہ کون میرا بھائی ہارون،
اشْدُدْ بِهِ أَزْرِي [20-31]
اس سے میری کمر مضبوط کر،
وَأَشْرِكْهُ فِي أَمْرِي [20-32]
اور اسے میرے کام میں شریک کر (ف۳۰)
كَيْ نُسَبِّحَكَ كَثِيرًا [20-33]
کہ ہم بکثرت تیری پاکی بولیں،
