سورۃ الرحمن

(مدنی ، کلُ آیات 78)

بسم الله الرحمن الرحیم
پڑھنے میں دشواری؟  فانٹ ڈاؤن لوڈ کریں
Pages: Previous 1 2 Next
[55]
الرَّحْمَنُ ‌[55-1]
رحمٰن
﴿1﴾
عَلَّمَ الْقُرْآنَ ‌[55-2]
نے اپنے محبوب کو قرآن سکھایا (ف۲)
﴿2﴾
خَلَقَ الْإِنسَانَ ‌[55-3]
انسانیت کی جان محمد کو پیدا کیا،
﴿3﴾
عَلَّمَهُ الْبَيَانَ ‌[55-4]
ما کان وما یکون کا بیان انہیں سکھایا (ف۳)
﴿4﴾
الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ ‌[55-5]
سورج اور چاند حساب سے ہیں (ف۴)
﴿5﴾
وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدَانِ ‌[55-6]
اور سبزے اور پیڑ سجدہ کرتے ہیں (ف۵)
﴿6﴾
وَالسَّمَاء رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ ‌[55-7]
اور آسمان کو اللہ نے بلند کیا (ف۶) اور ترازو رکھی (ف۷)
﴿7﴾
أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ ‌[55-8]
کہ ترازو میں بے اعتدالی نہ کرو (ف۸)
﴿8﴾
وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ ‌[55-9]
اور انصاف کے ساتھ تول قائم کرو اور وزن نہ گھٹاؤ،
﴿9﴾
وَالْأَرْضَ وَضَعَهَا لِلْأَنَامِ ‌[55-10]
اور زمین رکھی مخلوق کے لیے (ف۹)
﴿10﴾
فِيهَا فَاكِهَةٌ وَالنَّخْلُ ذَاتُ الْأَكْمَامِ ‌[55-11]
اس میں میوے اور غلاف والی کھجوریں (ف۱۰)
﴿11﴾
وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَالرَّيْحَانُ ‌[55-12]
اور بھُس کے ساتھ اناج (ف۱۱) اور خوشبو کے پھول،
﴿12﴾
فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ‌[55-13]
تو اے جن و انس! تم دونوں اپنے رب کی کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے (ف۱۲)
﴿13﴾
خَلَقَ الْإِنسَانَ مِن صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ ‌[55-14]
اس نے آدمی کو بنا یا بجتی مٹی سے جیسے ٹھیکری (ف۱۳)
﴿14﴾
وَخَلَقَ الْجَانَّ مِن مَّارِجٍ مِّن نَّارٍ ‌[55-15]
اور جن کو پیدا فرمایا آگ کے لُوکے (لپیٹ) سے (ف۱۴)
﴿15﴾
فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ‌[55-16]
تو تم دونوں اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
﴿16﴾
رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ ‌[55-17]
دونوں پورب کا رب اور دونوں پچھم کا رب (ف۱۵)
﴿17﴾
فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ‌[55-18]
تو تم دونوں اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
﴿18﴾
مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ ‌[55-19]
اس نے دو سمندر بہائے (ف۱۶) کہ دیکھنے میں معلوم ہوں ملے ہوئے (ف۱۷)
﴿19﴾
بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ ‌[55-20]
اور ہے ان میں روک (ف۱۸) کہ ایک دوسرے پر بڑھ نہیں سکتا (ف۱۹)
﴿20﴾
فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ‌[55-21]
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
﴿21﴾
يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ ‌[55-22]
ان میں سے موتی اور مونگا نکلتا ہے،
﴿22﴾
فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ‌[55-23]
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
﴿23﴾
وَلَهُ الْجَوَارِ الْمُنشَآتُ فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلَامِ ‌[55-24]
اور اسی کی ہیں وہ چلنے والیاں کہ دریا میں اٹھی ہوئی ہیں جیسے پہاڑ (ف۲۰)
﴿24﴾
فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ‌[55-25]
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
﴿25﴾
كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ ‌[55-26]
زمین پر جتنے ہیں سب کو فنا ہے (ف۲۱)
﴿26﴾
وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ‌[55-27]
اور باقی ہے تمہارے رب کی ذات عظمت اور بزرگی والا (ف۲۲)
﴿27﴾
فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ‌[55-28]
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
﴿28﴾
يَسْأَلُهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ ‌[55-29]
اسی کے منگتا ہیں جتنے آسمانوں اور زمین میں ہیں (ف۲۳) اسے ہر دن ایک کام ہے (ف۲۴)
﴿29﴾
فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ‌[55-30]
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
﴿30﴾
سَنَفْرُغُ لَكُمْ أَيُّهَا الثَّقَلَانِ ‌[55-31]
جلد سب کام نبٹا کر ہم تمہارے حساب کا قصد فرماتے ہیں اے دونوں بھاری گروہ (ف۲۵)
﴿31﴾
فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ‌[55-32]
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
﴿32﴾
يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَن تَنفُذُوا مِنْ أَقْطَارِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ فَانفُذُوا لَا تَنفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطَانٍ ‌[55-33]
اے جن و انسان کے گروہ اگر تم سے ہوسکے کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ، جہاں نکل کر جاؤ گے اسی کی سلطنت ہے (ف۲۶)
﴿33﴾
فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ‌[55-34]
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
﴿34﴾

Pages: Previous 1 2 Next