روزِ قیامت کی قسم! یاد فرماتا ہوں،
وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ [75-2]
اور اس جان کی قسم! جو اپنے اوپر ملامت کرے (ف۲)
أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَلَّن نَجْمَعَ عِظَامَهُ [75-3]
کیا آدمی (ف۳) یہ سمجھتا ہے کہ ہم ہرگز اس کی ہڈیاں جمع نہ فرمائیں گے،
بَلَى قَادِرِينَ عَلَى أَن نُّسَوِّيَ بَنَانَهُ [75-4]
کیوں نہیں ہم قادر ہیں کہ اس کے پور ٹھیک بنادیں (ف۴)
بَلْ يُرِيدُ الْإِنسَانُ لِيَفْجُرَ أَمَامَهُ [75-5]
بلکہ آدمی چاہتا ہے کہ اس کی نگاہ کے سامنے بدی کرے (ف۵)
يَسْأَلُ أَيَّانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ [75-6]
پوچھتا ہے قیامت کا دن کب ہوگا،
فَإِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ [75-7]
پھر جس دن آنکھ چوندھیائے گی (ف۶)
وَخَسَفَ الْقَمَرُ [75-8]
اور چاند کہے گا (ف۷)
وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ [75-9]
اور سورج اور چاند ملادیے جائیں گے (ف۸)
يَقُولُ الْإِنسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ [75-10]
اس دن آدمی کہے گا کدھر بھاگ کر جاؤں (ف۹)
كَلَّا لَا وَزَرَ [75-11]
ہرگز نہیں کوئی پناہ نہیں،
إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ [75-12]
اس دن تیرے رب ہی کی طرف جاکر ٹھہرنا ہے (ف۱۰)
يُنَبَّأُ الْإِنسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ [75-13]
اس دن آدمی کو اس کا سب اگلا پچھلا جتادیا جائے گا (ف۱۱)
بَلِ الْإِنسَانُ عَلَى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ [75-14]
بلکہ آدمی خود ہی اپنے حال پر پوری نگاہ رکھتا ہے،
وَلَوْ أَلْقَى مَعَاذِيرَهُ [75-15]
اور اگر اس کے پاس جتنے بہانے ہوں سب لا ڈالے،
لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ [75-16]
جب بھی نہ سنا جائے گا تم یاد کرنے کی جلدی میں قرآن کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دو (ف۱۲)
إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ [75-17]
بیشک اس کا محفوظ کرنا (ف۱۳) اور پڑھنا (ف۱۴) ہمارے ذمہ ہے،
فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [75-18]
تو جب ہم اسے پڑھ چکیں (ف۱۵) اس وقت اس پڑھے ہوئے کی اتباع کرو (ف۱۶)
ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ [75-19]
پھر بیشک اس کی باریکیوں کا تم پر ظاہر فرمانا ہمارے ذمہ ہے،
كَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ [75-20]
کوئی نہیں بلکہ اے کافرو! تم پاؤں تلے کی (دنیاوی فائدے کو) عزیز دوست رکھتے ہو (ف۱۷)
وَتَذَرُونَ الْآخِرَةَ [75-21]
اور آخرت کو چھوڑ بیٹھے ہو،
وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ [75-22]
کچھ منہ اس دن (ف۱۸) تر و تازہ ہوں گے (ف۱۹)
إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ [75-23]
اپنے رب کا دیکھتے (ف۲۰)
وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ بَاسِرَةٌ [75-24]
اور کچھ منہ اس دن بگڑے ہوئے ہوں گے (ف۲۱)
تَظُنُّ أَن يُفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌ [75-25]
سمجھتے ہوں گے کہ ان کے ساتھ وہ کی جائے گی جو کمر کو توڑ دے (ف۲۲)
كَلَّا إِذَا بَلَغَتْ التَّرَاقِيَ [75-26]
ہاں ہاں جب جان گلے کو پہنچ جائے گی (ف۲۳)
وَقِيلَ مَنْ رَاقٍ [75-27]
اور کہیں گے (ف۲۴) کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرے (ف۲۵)
وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ [75-28]
سمجھ لے گا کہ یہ جدائی کی گھڑی ہے (ف۲۷)
وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ [75-29]
اور پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے گی (ف۲۸)
إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمَسَاقُ [75-30]
اس دن تیرے رب ہی کی طرف ہانکنا ہے (ف۱۹)
فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّى [75-31]
اس نے (ف۳۰) نہ تو سچ مانا (ف۳۱) اور نہ نماز پڑھی،
وَلَكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّى [75-32]
ہاں جھٹلایا اور منہ پھیرا (ف۳۲)
ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى أَهْلِهِ يَتَمَطَّى [75-33]
پھر اپنے گھر کو اکڑتا چلا (ف۳۳)
أَوْلَى لَكَ فَأَوْلَى [75-34]
تیری خرابی ا ٓ لگی اب آ لگی،
ثُمَّ أَوْلَى لَكَ فَأَوْلَى [75-35]
پھر تیری خرابی آ لگی اب آ لگی، (ف۳۴)
أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى [75-36]
کیا آدمی اس گھمنڈ میں ہے کہ آزاد چھوڑ دیا جائے گا (ف۳۵)
أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِيٍّ يُمْنَى [75-37]
کیا وہ ایک بوند نہ تھا اس منی کا کہ گرائی جائے (ف۳۶)
ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى [75-38]
پھر خون کی پھٹک ہوا تو اس نے پیدا فرمایا (ف۳۷) پھر ٹھیک بنایا (ف۳۸)
فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَى [75-39]
تو اس سے (ف۳۹) دو جوڑ بنائے (ف۴۰) مرد اور عورت،
أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَى [75-40]
کیا جس نے یہ کچھ کیا وہ مردے نہ جِلا سکے گا،
