وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا [79-1]
قسم ان کی (ف۲) کہ سختی سے جان کھینچیں (ف۳)
وَالنَّاشِطَاتِ نَشْطًا [79-2]
اور نرمی سے بند کھولیں) (ف۴)
وَالسَّابِحَاتِ سَبْحًا [79-3]
اور آسانی سے پیریں (ف۵)
فَالسَّابِقَاتِ سَبْقًا [79-4]
پھر آگے بڑھ کر جلد پہنچیں (ف۶)
فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا [79-5]
پھر کام کی تدبیر کریں (ف۷)
يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ [79-6]
کہ کافروں پر ضرور عذاب ہوگا جس دن تھر تھرائے گی تھرتھرانے والی (ف۸)
تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ [79-7]
اس کے پیچھے آئے گی پیچھے آنے والی (ف۹)
قُلُوبٌ يَوْمَئِذٍ وَاجِفَةٌ [79-8]
کتنے دل اس دن دھڑکتے ہوں گے،
أَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌ [79-9]
آنکھ اوپر نہ اٹھا سکیں گے (ف۱۰)
يَقُولُونَ أَئِنَّا لَمَرْدُودُونَ فِي الْحَافِرَةِ [79-10]
کافر (ف۱۱) کہتے ہیں کیا ہم پھر الٹے پاؤں پلٹیں گے (ف۱۲)
أَئِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً [79-11]
کیا ہم جب گلی ہڈیاں ہوجائیں گے (ف۱۳)
قَالُوا تِلْكَ إِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ [79-12]
بولے یوں تو یہ پلٹنا تو نرا نقصان ہے (ف۱۴)
فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ [79-13]
تو وہ (ف۱۵) نہیں مگر ایک جھڑکی (ف۱۶)
فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ [79-14]
جبھی وہ کھلے میدان میں آپڑے ہوں گے (ف۱۷)
هَلْ أتَاكَ حَدِيثُ مُوسَى [79-15]
کیا تمہیں موسیٰ کی خبر آئی (ف۱۸)
إِذْ نَادَاهُ رَبُّهُ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى [79-16]
جب اسے اس کے رب نے پاک جنگل طویٰ میں (ف۱۹) ندا فرمائی،
اذْهَبْ إِلَى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَى [79-17]
کہ فرعون کے پاس جا اس نے سر اٹھایا (ف۲۰)
فَقُلْ هَل لَّكَ إِلَى أَن تَزَكَّى [79-18]
اس سے کہہ کیا تجھے رغبت اس طرف ہے کہ ستھرا ہو (ف۲۱)
وَأَهْدِيَكَ إِلَى رَبِّكَ فَتَخْشَى [79-19]
اور تجھے تیرے رب کی طرف (ف۲۲) راہ بتاؤں کہ تو ڈرے (ف۲۳)
فَأَرَاهُ الْآيَةَ الْكُبْرَى [79-20]
پھر موسیٰ نے اسے بہت بڑی نشانی دکھائی (ف۲۴)
فَكَذَّبَ وَعَصَى [79-21]
اس پر اس نے جھٹلایا (ف۲۵) اور نافرمانی کی،
ثُمَّ أَدْبَرَ يَسْعَى [79-22]
پھر پیٹھ دی (ف۲۶) اپنی کوشش میں لگا (ف۲۷)
فَحَشَرَ فَنَادَى [79-23]
تو لوگوں کو جمع کیا (ف۲۸) پھر پکارا،
فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَى [79-24]
پھر بولا میں تمہارا سب سے اونچا رب ہوں (ف۲۹)
فَأَخَذَهُ اللَّهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَى [79-25]
تو اللہ نے اسے دنیا و آخرت دونوں کے عذاب میں پکڑا (ف۳۰)
إِنَّ فِي ذَلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَن يَخْشَى [79-26]
بیشک اس میں سیکھ ملتا ہے اسے جو ڈرے (ف۳۱)
أَأَنتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ السَّمَاء بَنَاهَا [79-27]
کیا تمہاری سمجھ کے مطابق تمہارا بنانا (ف۳۲) مشکل یا آسمان کا اللہ نے اسے بنایا،
رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوَّاهَا [79-28]
اس کی چھت اونچی کی (ف۳۳) پھر اسے ٹھیک کیا (ف۳۴)
وَأَغْطَشَ لَيْلَهَا وَأَخْرَجَ ضُحَاهَا [79-29]
اس کی رات اندھیری کی اور اس کی روشنی چمکائی (ف۳۵)
وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَلِكَ دَحَاهَا [79-30]
اور اس کے بعد زمین پھیلائی (ف۳۶)
أَخْرَجَ مِنْهَا مَاءهَا وَمَرْعَاهَا [79-31]
اس میں سے (ف۳۷) اس کا پانی اور چارہ نکا لا (ف۳۸)
وَالْجِبَالَ أَرْسَاهَا [79-32]
اور پہاڑوں کو جمایا (ف۳۹)
مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِأَنْعَامِكُمْ [79-33]
تمہارے اور تمہارے چوپایوں کے فائدہ کو،
فَإِذَا جَاءتِ الطَّامَّةُ الْكُبْرَى [79-34]
پھر جب آئے گی وہ عام مصیبت سب سے بڑی (ف۴۰)
يَوْمَ يَتَذَكَّرُ الْإِنسَانُ مَا سَعَى [79-35]
اس دن آدمی یاد کرے گا جو کوشش کی تھی (ف۴۱)
وَبُرِّزَتِ الْجَحِيمُ لِمَن يَرَى [79-36]
اور جہنم ہر دیکھنے والے پر ظاہر کی جائے گی (ف۴۲)
فَأَمَّا مَن طَغَى [79-37]
تو وہ جس نے سرکشی کی (ف۴۳)
وَآثَرَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا [79-38]
اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی (ف۴۴)
فَإِنَّ الْجَحِيمَ هِيَ الْمَأْوَى [79-39]
تو بیشک جہنم ہی اس کا ٹھکانا ہے،
وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى [79-40]
اور وہ جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرا (ف۴۵) اور نفس کو خواہش سے روکا (ف۴۶)
فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَى [79-41]
تو بیشک جنت ہی ٹھکانا ہے (ف۴۷)
يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا [79-42]
تم سے قیامت کو پوچھتے ہیں کہ وہ کب کے لیے ٹھہری ہوئی ہے،
فِيمَ أَنتَ مِن ذِكْرَاهَا [79-43]
تمہیں اس کے بیان سے کیا تعلق (ف۴۸)
إِلَى رَبِّكَ مُنتَهَاهَا [79-44]
تمہارے رب ہی تک اس کی انتہا ہے،
إِنَّمَا أَنتَ مُنذِرُ مَن يَخْشَاهَا [79-45]
تم تو فقط اسے ڈرا نے والے ہو جو اس سے ڈرے،
كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَاهَا [79-46]
گویا جس دن وہ اسے دیکھیں گے (ف۴۹) دنیا میں نہ رہے تھے مگر ایک شام یا اس کے دن چڑھے،
