مجھے اس شہر کی قسم (ف۲)
وَأَنتَ حِلٌّ بِهَذَا الْبَلَدِ [90-2]
کہ اے محبوب! تم اس شہر میں تشریف فرما ہو (ف۳)
وَوَالِدٍ وَمَا وَلَدَ [90-3]
اور تمہارے باپ ابراہیم کی قسم اور اس کی اولاد کی کہ تم ہو (ف۴)
لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي كَبَدٍ [90-4]
بیشک ہم نے آدمی کو مشقت میں رہتا پیدا کیا (ف۵)
أَيَحْسَبُ أَن لَّن يَقْدِرَ عَلَيْهِ أَحَدٌ [90-5]
کیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ ہرگز اس پر کوئی قدرت نہیں پائے گا (ف۶)
يَقُولُ أَهْلَكْتُ مَالًا لُّبَدًا [90-6]
کہتا ہے میں نے ڈھیروں مال فنا کردیا (ف۷)
أَيَحْسَبُ أَن لَّمْ يَرَهُ أَحَدٌ [90-7]
کیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ اسے کسی نے نہ دیکھا (ف۸)
أَلَمْ نَجْعَل لَّهُ عَيْنَيْنِ [90-8]
کیا ہم نے اس کی دو آنکھیں نہ بنائیں (ف۹)
وَلِسَانًا وَشَفَتَيْنِ [90-9]
اور زبان (ف۱۰) اور دو ہونٹ (ف۱۱)
وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ [90-10]
اور اسے دو ابھری چیزوں کی راہ بتائی (ف۱۲)
فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ [90-11]
پھر بے تامل گھاٹی میں نہ کودا (ف۱۳)
وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْعَقَبَةُ [90-12]
اور تو نے کیا جانا وہ گھاٹی کیا ہے (ف۱۴)
فَكُّ رَقَبَةٍ [90-13]
کسی بندے کی گردن چھڑانا (ف۱۵)
أَوْ إِطْعَامٌ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ [90-14]
یا بھوک کے دن کھانا دینا (ف۱۶)
يَتِيمًا ذَا مَقْرَبَةٍ [90-15]
رشتہ دار یتیم کو،
أَوْ مِسْكِينًا ذَا مَتْرَبَةٍ [90-16]
یا خاک نشین مسکین کو (ف۱۷)
ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ [90-17]
پھر ہو ان سے جو ایمان لائے (ف۱۸) اور انہوں نے آپس میں صبر کی وصیتیں کیں (ف۱۹) اور آپس میں مہربانی کی وصیتیں کیں(ف۲۰)
أُوْلَئِكَ أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ [90-18]
یہ دہنی طرف والے ہیں (ف۲۱)
وَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِنَا هُمْ أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ [90-19]
اور جنہوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا وہ بائیں طرف والے (ف۲۲)
عَلَيْهِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَةٌ [90-20]
ان پر آگ ہے کہ اس میں ڈال کر اوپر سے بند کردی گئی (ف۲۳)
