وقت کا بیان

سوال نمبر 1: نماز کے لیے وقت شرط ہونے کا کیا مطلب ہے؟
جواب :نماز کے لیے جو اوقات مقرر ہیں نماز کا انھیں محدود وقتوں میں ادا کرنا فرض ہے ۔ اگر اس سے پہلے پڑھ لی تو نماز ہوگی ہی نہیں اور وقت گزار کر پڑھے گا تو قضا کہلائے گی اور یہ گنہگار ہوگا۔
سوال نمبر 2: نماز کتنے وقت کی فرض ہے؟
جواب :ہر رات دن میں ہر مسلمان پر عاقل بالغ مرد و عورت پر پانچ وقت کی نماز فرض ہے۔ فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء۔
سوال نمبر 3: فجر کی نماز کا وقت کب سے کب تک رہتا ہے؟
جواب :فجرکی نماز کا وقت صبح صادق سے شروع ہوتا ہے اور آفتاب کی کرن چمکنے تک رہتا ہے۔ ان شہروں میں یہ وقت کم سے کم ایک گھنٹہ اٹھارہ منٹ اور زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ پینتس منٹ ہے نہ اس سے کم ہوگا نہ زیادہ۔
سوال نمبر 4: فجر کا مستحب وقت کیا ہے؟
جواب :فجر میں تاخیر مستحب ہے یعنی اسفار میں جب خوب اجالا ہو اور زمین روشن ہو جائے ایسے وقت میں نماز شروع کرے کہ سنت کے موافق چالیس سے ساٹھ آیات پڑھ سکے۔ پھر سلام پھیرنے کے بعد اتنا وقت باقی بچے کہ اگر نماز دوبارہ پڑھنی پڑھے تو دوبارہ سنت کے موافق پڑھی جا سکے۔
سوال نمبر 5: صبح صادق کیا ہے؟
جواب :صبح صادق ایک روشنی ہے جو مشرق کی جانب آسمان کے کنارے میں دکھائی دیتی ہے اور بڑھتی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ تمام آسمان پر پھیل جاتی ہے۔ اور زمین پر اجالا ہوتا جاتا ہے اور اس سے پہلے بیچ آسمان پر ایک سفیدی ستون کی طرح ظاہر ہوتی ہے جس کے نیچے سارا افق سیاہ ہوتا ہے۔ اور صبح صادق کے وقت یہ دراز سپیدی غائب ہو جاتی ہے اس کو صبح کا ذب کہتے ہیں۔
سوال نمبر 6: نماز ظہر کا وقت کیا ہے؟
جواب :ظہر کی نماز کا وقت زوال یعنی سورج ڈھلنے کے بعد سے شروع ہوتا ہے اور ٹھیک دوپہر کے وقت جو سایہ ہو اس کے علاوہ جب ہر چیز کا سایہ اس چیز سے دو مثل (دوگنا) ہو جائے تو ظہر کا وقت ختم ہو جاتا ہے۔
سوال نمبر 7: ظہر کا وقت مستحب کیا ہے؟
جواب :جاڑوں کی ظہر میں جلدی مستحب ہے اور گرمی کے دنوں میں تاخیر مستحب یعنی جب گرمی کی تیزی کم ہو جائے ، خواہ تنہا پڑھے یا جماعت کے ساتھ لیکن بہتر یہ ہے کہ ظہر کی نماز ایک مثل میں پڑھے، ہاں گرمیوں میں ظہر کی جماعت اول وقت میں ہوتی ہو تو مستحب وقت کے لیے جماعت کا چھوڑ دینا جائز نہیں۔
سوال نمبر 8: عصر کا وقت کب سے کب تک رہتا ہے؟
جواب :جب ہر چیز کا سایہ (سوا سائیہ اصلی کے) دو مثل ہو جائے تو ظہر کا وقت ختم ہو کر عصر کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔ اور غروب آفتاب تک رہتا ہے۔ ان شہروں میں وقت کا اثر کم از کم ایک گھنٹہ پینتس منٹ اور زیادہ سے زیادہ دو گھنٹے چھ منٹ ہے۔
سوال نمبر 9: عصر کا مستحب وقت کیا ہے؟
جواب :عصر کی نماز میں ہمیشہ تاخیر (دیر کرکے پڑھنا) مستحب ہے۔ مگر اتنی دیر نہ کریں کہ آفتاب بہت نیچا اور زرد ہو جائے اس پر بے تکلف نگاہ ٹھہرنے لگے ورنہ نماز مکروہ ہوگی اور سورج پر یہ زردی اس وقت آجاتی ہے جب غروب میں بیس منٹ باقی رہتے ہیں ، تو اسی قد روقت کراہت ہے۔
سوال نمبر 10: مغرب کا وقت کب سے کب تک ہے؟
جواب :وقت مغرب غروب آفتاب سے غروب شفق تک ہے اور یہ وقت ان شہروں میں کم سے کم ایک گھنٹہ اٹھارہ منٹ اور زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ پینتس منٹ ہوتا ہے ۔ یعنی ہر روز کے صبح اور مغرب کے وقت برابر ہوتے ہیں۔
سوال نمبر 11: شفق کسے کہتے ہیں؟
جواب :امام اعظم ابو حنیفہ کے نزدیک شفق اس سفیدی کا نام ہے جو مغرب میں سرخی ڈوبنے کے بعد صبح صادق کی طرح پھیلی ہوئی رہتی ہے۔
سوال نمبر 12: مغرب کا وقت مستحب کیا ہے؟
جواب :اگر باد ل نہ ہوں تو مغرب میں ہمیشہ اول میں نماز پڑھنا مستحب ہے اور بلا عذر دیر کرکے نماز ادا کرنا مکروہ ہے۔ اور ابر کے دن تاخیر مستحب ہے۔
سوال نمبر 13: نماز عشاء کا وقت کیا ہے؟
جواب :سفید شفق کے غروب ہو جانے کے بعد عشاء کا وقت شروع ہوتا ہے اور صبح صادق ہونے سے پہلے تک رہتا ہے۔
سوال نمبر 14: عشاء کا وقت مستحب کیا ہے؟

اب :عشاء میںتنہائی رات تک دیر کرنا مستحب ہے اور آدھی رات تک مباح ہے اور اتنی دیر کرنا کہ رات ڈھل گئی، مکروہ ہے۔
سوال نمبر 15: نماز وتر کا وقت کونسا ہے؟
جواب :عشاء ووتر کا وقت ایک ہے مگر ان میں باہم ترتیب فرض ہے کہ عشاء سے پہلے اگر وتر کی نماز پڑھ لی توہوگی ہی نہیں اور جو شخص جاگنے پر اعتماد رکھتا ہے اس کے لیے بہتر یہ ہے کہ وتر کی پچھلی رات میں پڑھے ورنہ بعد عشاء ہونے سے پہلے پڑھ لے۔
سوال نمبر 16: وہ کون سے اوقات ہیں جن میں کوئی نماز جائز ہی نہیں؟
جواب :وہ تین وقت ہیں۔ طلوع آفتاب کا وقت، غروب آفتاب کا وقت اور نصف النہار یعنی سور ج کے قائم ہونے سے زوال تک کا وقت ۔ طلوع و غروب کی مقدار ۲۰ منٹ ہے اور نصف النہار چالیس پینتالیس منٹ کا وقفہ ہے۔ ان تینوں وقتوں میں کوئی نماز جائز نہیں نہ فرض نہ واجب نہ نفل،نہ ادا نہ قضا ء اور نہ سجدۂ تلاوت نہ سجدئہ سہو۔
سوال نمبر 17: وہ کونسے اوقات ہیں جن میں نفل نماز جائز نہیں؟
جواب :گیارہ وقتوں میں نوافل پڑھنا منع ہے:
۱۔ طلوع فجر سے طلوع آفتاب تک سوا دو رکعت سنت فجر کے کوئی نفل نماز جائز نہیں۔
۲۔ جب اپنے مذہب کی جماعت کے لیے اقامت ہے۔
۳۔ نما ز عصر کے بعد۔
۴۔ غروب آفتاب سے فرض مغرب تک۔
۵۔ جب اما م اپنی جگہ سے خطبہ جمعہ کے لیے کھڑا ہو۔
۶۔ عین خطبہ کے وقت۔
۷۔ نماز عید سے پہلے۔
۸۔ نماز عید کے بعد جبکہ عید گاہ یا مسجد میں پڑھے۔ گھر میں پڑھنا مکروہ نہیں۔
۹۔ عرفات میں ظہر و عصر کے درمیان۔
۱۰۔ جبکہ فرض کا وقت تنگ ہو تو ہر نماز ، یہاں تک کہ سنت فجر و ظہر بھی مکروہ ہے۔
۱۱۔ جس بات سیدل بٹے اور دفع کر سکتا ہو اسے دفع کئے بغیر ہر نماز مکروہ ہے۔ مثلاً زور کا پیشاب پاخانہ لگتے وقت۔

4 responses to “وقت کا بیان”

  1. Muhammad Tariq says:

    سوال اوقات مکروہ کے متعلق کوئی حدیث مبارکہ هو تو بیان کی جاہ

  2. Muhammad Tariq says:

    Makrooh Time kay mutahalaq kooi Hadees Shareef hoo too wooh Biyaan ki jayay

  3. Mrs Ali says:

    ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے ، کہا ہم سے عوف اعرابی نے ، کہا کہ ہم سے ابوالمنہال سیار بن سلامہ نے ، انھوں نے کہا کہ میں اپنے باپ سلامہ کے ساتھ ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ ان سے میرے والد صاحب نے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نمازیں کس طرح ( یعنی کن کن اوقات میں ) پڑھتے تھے ۔ ہم سے اس کے بارے میں بیان فرمائیے ۔ انھوں نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم «هجير» ( ظہر ) جسے تم صلوٰۃ اولیٰ کہتے ہو سورج ڈھلتے ہی پڑھتے تھے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عصر پڑھنے کے بعد کوئی بھی شخص اپنے گھر واپس ہوتا اور وہ بھی مدینہ کے سب سے آخری کنارہ پر تو سورج ابھی صاف اور روشن ہوتا ۔ مغرب کے بارے میں آپ نے جو کچھ بتایا مجھے یاد نہیں رہا ۔ اور فرمایا کہ عشاء میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تاخیر پسند فرماتے تھے ۔ اس سے پہلے سونے کو اور اس کے بعد بات کرنے کو پسند نہیں کرتے تھے ۔ صبح کی نماز سے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوتے تو ہم اپنے قریب بیٹھے ہوئے دوسرے شخص کو پہچان لیتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر میں ساٹھ سے سو تک آیتیں پڑھتے تھے ۔

    Narrated Abu-l-Minhal:
    My father and I went to Abi Barza Al-Aslami and my father said to him, “Tell us how Allah’s Messenger (ﷺ) used to offer the compulsory congregational prayers.” He said, “He used to pray the Zuhr prayer, which you call the first prayer, as the sun declined at noon, the `Asr at a time when one of US could go to his family at the farthest place in Medina while the sun was still hot. (The narrator forgot what Abu Barza had said about the Maghrib prayer), and the Prophet (ﷺ) preferred to pray the `Isha’ late and disliked to sleep before it or talk after it. And he used to return after finishing the morning prayer at such a time when it was possible for one to recognize the person sitting by his side and he (the Prophet) used to recite 60 to 100 ‘Ayat’ (verses) of the Qur’an in it.”(Sahih Bukhari)

  4. Muhammad Tariq says:

    الحمداللہ
    آپکی رہنمائی قابلِ تعریف ہے لیکن میں ابھی تک اس مسئلے میں الجها ہوا ہوں کہ اوقات مکروہ کے متعلق کوئی حدیث نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بهی موجود ہے یا یہ اوقات فقہاء کے ضمرے میں آتے ہیں اگر کوئی حدیث مبارکہ موجود ہے تو براہ مہربانی اس کا حوالہ دے دیں شکریہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *